بنگلورو۔30؍ اگست(عبدالحلیم منصور/ ایس او نیوز) شہر کے جے سی نگر اور کاول بائرسندرا علاقہ کے درمیان فوجی حکام کی طرف سے متنازعہ زمین پر تعمیراتی کام شروع کئے جانے کے سبب آج کشیدگی کی صورتحال پیدا ہوگئی۔حالات کو قابو میں کرنے پولیس کو لاٹھی چارج کا سہارا لینا پڑا۔
شہر کے کاول بائر سندرا علاقہ کے قریب مودی گارڈن میں ایک مسجد کے قریب فوجی حکام کی طرف سے انہدامی کارروائی شروع کی گئی ۔ بتایا جاتاہے کہ اس زمین پر چند دکانیں غیر قانونی طور پر تعمیر کرلی گئی تھیں،تاہم فوجی حکام کی طرف سے اس سلسلے میں یکطرفہ کارروائی پر مقامی لوگوں نے سخت اعتراض کیا اور احتجاج شروع کردیا۔ تاہم دیکھتے ہی دیکھتے فوجی اور وہاں پر موجود نوجوانوں میں ہاتھا پائی کی نوبت آگئی۔ فوری طور پر پولیس جائے وقوع پر پہنچی اور اس نے لاٹھی چارج کے ذریعہ لوگوں کو منتشر کیا ۔
مقامی لوگوں نے فوجی حکام کی اس زیادتی پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ ان حکام نے عوامی استعمال کی پانچ سڑکوں پر غیر قانونی قبضہ کرلیا ہے، فوری طور پر یہ سڑکیں عوام کیلئے کھولی جائیں، تو دوسری طرف فوجی حکام کا دعویٰ تھاکہ یہ زمین محکمۂ دفاع کی ہے، اس زمین کو خالی کرنے کیلئے بارہا نوٹس دئے جانے کے باوجود بھی خالی نہیں کی گئی جس کے سبب انہدامی کارروائی کی جارہی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی اس علاقہ میں فوجی حکام اور عوام کے درمیان مسجد کے معاملہ میں اور ساتھ ہی جے سی نگر میں موجود سرکاری اسکول کی زمین کا تنازعہ بھی پیدا ہوگیاتھا۔ تاہم اس وقت مرکزی وزیر سدانند گوڈا ، ریاستی وزیر تنویر سیٹھ اور دیگر حکام کی مداخلت کے سبب صورتحال کو قابو میں کیا گیاتھا۔ ریاستی حکومت نے حال ہی میں ان تمام متنازعہ زمینات کے عوض آنیکل میں فوج کو مطلوبہ زمین مہیا کرانے کا اعلان کیا اور محکمۂ دفاع نے بھی متبادل زمین حاصل کرنے کی رضامندی دے دی۔ اس کے باوجود بھی مقامی لوگوں کے ساتھ فوجی حکام کی تکرار کا یہ نیا سلسلہ چل پڑا ہے۔